سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کی بڑی کامیابی، بھارت کو معاہدے کی پاسداری کا حکم
عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کا معاہدہ معطل رکھنے کا مؤقف ناقابل جواز قرار دے دیا ہے، سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت معاہدے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے رَتل پن بجلی منصوبے پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں اور بھارت کو کورتل ڈیم کی مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ ڈالنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے غیرجانبدار عالمی ماہر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے جو آئندہ برس جولائی تک پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر سے متعلق رائے دے گا۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔
معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔
جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
اگرچہ یہ معاہدہ برقرار ہے لیکن دونوں ملکوں ہی کے اس پر تحفظات رہے ہیں اور بعض اوقات اس معاہدے کو جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔