میر رضا قتل کیس، اہل خانہ نے جوڈیشنل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کر دیا
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس تحقیقاتی رپورٹ کل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرےگی، پولیس رپورٹ پیش کرنے سے پہلے سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کا اعلان کیوں کیا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہےکہ وہ پولیس کی تفتیش کے نتائج کو جانتے ہیں اور وہ اس سے متفق نہیں ہیں؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی ؟ پولیس افسران کے مجرمانہ رویےکی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری
دوسری جانب میر رضا کی بہن نے والد اور والدہ کے ہمراہ جاری ویڈیو بیان میں کہا ہےکہ جوڈیشل کمیشن سے متعلق ہمیں میڈیا سے پتا لگا ہے، پولیس نے24 اگست تک اپنی رپورٹ جمع کرنی تھی، رپورٹ ابھی تک باہر نہیں آئی ہے، نہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آر بتائےگئے ہیں۔
میر رضا کی بہن کا کہنا تھا کہ کیا انہیں پہلے سے پتہ ہے رپورٹ میں کیا ہے، ہم اس فیصلے کے ساتھ نہیں ہیں، ہم شروع سے تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں، نہ پولیس کی انکوائری کی جارہی ہے،کس بنیاد پر یہ کمیشن بنایا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 19 اگست کو وزیراعلیٰ کوخط لکھ کر سوال کیےتھے، ہم نے جے آئی ٹی کی بات کی تھی، ہم کل صبح ہائی کورٹ جائیں گے،ہم جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کرتے ہیں۔