عمران خان پر شدید ظلم اور ٹارچر: عظمی خان رو پڑیں
اسلام میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں رات ساڑھے آٹھ بجے اڈیالہ جیل بلوایا گیا، میں ڈی ایس پی ثقلین کے دفتر میں بیٹھی، پھر مجھے چھوٹی گاڑی میں لیکر پہنچے، جنگل سا لگ رہا تھا، پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ پمز ہے، وہ پمز کی او پی ڈی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں اوپر گئی تو وہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان موجود تھے، بانی پی ٹی آئی نے پولیس والوں سے کہا میری بہن مجھ سے دس ماہ بعد مل رہی ہے، بانی پی ٹی آئی نے مجھے پیار دیا، میں نے بولا کہ الشفا جانا ہے جہاں سب چیک اپ ہونا ہے۔
ڈاکٹر عظمی نے کہا کہ پمز میں ہی ڈاکٹر نے بولا آنکھ میں کون سے ڈراپس ڈالے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر چیک کیاگیا، پھر ڈاکٹر نے بولا ان کی آنکھ کا ٹیکہ لگنا ہے، لیکن کبھی وہاں کبھی کہیں بٹھاتے جیسے ٹائم گذارا جارہا، بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ ڈاکٹر نے بولا ہیومن کنٹیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے طبعیت بگڑی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو شفا ہسپتال کی بجائے کہاں لیجائے گا؟
انہوں نے بتایا کہ بانی نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر نے بتایا ہائپر ٹینشن ہومن کنٹیکٹ نہ ہونے سے ہوتا ہے، بانی کی جب ایک آنکھ کو انجیکشن لگا دیا گیا تو ان کی دوسری آنکھ پر پٹی تھی، پھر پمز سے جانے لگے تو میں نے پوچھا کہ الشفا جارہے ہیں تووہاں موجود لوگوں نے کچھ نہیں بتایا۔
ڈاکٹر عظمی نے کہا کہ میں باربار کہتی رہی لیکن کوئی جواب نہیں دیتا تھا، ایک ڈاکٹر عارف نےاپنا نام بتایا، موبائل تھا نہ کوئی گھڑی لیکن اس وقت فجر کی ازان ہورہی تھی، پھر واپس اڈیالہ جیل لے گئے، ڈاکٹر فیصل سلطان وہاں ایک دوسری گاڑی میں سے اترے۔
عمران خان کی بہن نے کہا کہ بانی کوبلڈپریشرنہیں تھا، انہیں شدید انزائیٹی تھی بانی بار بار کہتے رہے یہ دس مہینے سے میرے ساتھ بہت ظلم کررہے ہیں، بانی نے کہا سب کو جاکر بتائیں یہ میرے ساتھ شدید ظلم اور ٹارچر کررہے ہیں، بانی نے کہا کہ مرسی کو ایسے ہی مارا گیا تھا جیسے مجھے قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کررہے ہیں۔
ڈاکٹر عظمی نے کہا کہ ہمیں ایسی ٹریٹمنٹ دی گئی کہ ہم تو قیدی نہیں تھے۔