سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ عمران خان کو علاج اور طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ہفتے میں ایک دن ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے تحریک انصاف کو عمران خان کے علاج کے معاملے پر سیاست سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
عدالت کے مطابق بانی پی ٹی آئی آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔ تحریک انصاف اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اسپتال کے باہر کسی قسم کا جلسہ، جلوس یا احتجاج نہ ہو۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما سلما اکرم راجہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ سیاسی جماعت عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔
وفاقی حکومت کا اعتراض
وفاقی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر اعتراض بھی اٹھا دیا۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو اس معاملے میں نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا۔
عدالت نے وفاقی حکومت کا اعتراض بھی اپنے حکم نامے کا حصہ بنا دیا۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔
عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب
اس سے قبل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ، بچوں سے ٹیلی فون پر بات چیت اور بہنوں سے ملاقاتوں کی تمام تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور اہلخانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اور عمران خان کی میڈیکل رپورٹس عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا جیل میں انجیوگرافی ہوسکتی ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ اگر ایسا کوئی طبی عمل ضروری ہو تو عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق ایکو میں مسئلہ ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان میں انزائیٹی میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کی دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بھی نارمل نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا دن میں 3 مرتبہ ڈاکٹرز معائنہ کرتے ہیں۔
اس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ 3 مرتبہ معائنے کے باوجود بلڈ پریشر، دل اور دیگر مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ عمران خان کے مختلف وائٹل آرگنز سے متعلق مسائل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فیملی سے ملاقاتیں بڑھائی جائیں، کیا ایسا کیا گیا ہے؟
جسٹس شاہد وحید نے مزید سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو جو مواد فراہم کیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔
عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کا معاملہ
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے بھی استفسار کیا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس سے ملاقات نہیں ہوگی۔
اس پر جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا، "اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟"
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کا کام نہیں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔
انہوں نے مزید استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی بہنوں کی 3 سال کے دوران 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
بچوں سے بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب
عدالت نے عمران خان کی اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کروانے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔
عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کرائی جائے، وہ میڈیا سے کوئی بات نہیں کریں گی۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ایک بات طے کر لیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی۔
وکیل عذیر بھنڈاری نے مزید استدعا کی کہ عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مکمل طبی معائنہ بھی کرایا جائے۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ باہر آکر میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی؟
وکیل عذیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کے وکیل ہیں اور ان کی ہدایات کے مطابق ہی ضمانت دے رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔