ہنزہ میں 4.8 شدت کا زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ سے سڑک بند
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مقامی ذرائع کے مطابق چپورسن میں گزشتہ رات سے مختلف اوقات میں زلزلے کے کم از کم چار جھٹکے محسوس کیے گئے، جبکہ آج صبح آنے والے زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔
زلزلے کے نتیجے میں رمنجی کے قریب پہاڑی تودے گرنے سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے باعث وادی کو ملانے والی رابطہ سڑک بند ہوگئی، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب سوست میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے بعض گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، مقامی آبادی نے مسلسل زلزلوں کے باعث شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی وادی چپورسن گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل زلزلوں کی زد میں ہے، متعدد مقامی خاندان اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے وادی سے ہجرت کرکے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
چپورسن، گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی آخری وادی ہے جو پاک افغان سرحد کے قریب واخان کوریڈور سے متصل ہے۔ رواں سال 19 جنوری کو بھی علاقے میں شدید زلزلہ آیا تھا، جس سے کئی مکانات منہدم ہوگئے تھے جبکہ وادی کی جانب جانے والی واحد کچی سڑک بھی شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی تھی۔
محکمہ موسمیات اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق علاقے میں آنے والے زلزلے ایک فالٹ لائن سے منسلک ہیں۔ ماہرین نے فالٹ لائن کے ساتھ گلیشیئرز کی زیرِ زمین حرکات کو بھی زلزلوں کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آج بادل کہاں کہاں برسیں گے؟ الرٹ جاری
مسلسل زلزلوں کے باعث علاقے کے مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور متاثرہ خاندان محفوظ مقامات پر رہنے پر مجبور ہیں۔