پنجاب یونیورسٹی کے معاملات پر لاہور بار کی حمایت، غیر جانبدار فرانزک آڈٹ کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد میں پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر، پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن نیازی، پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی، ڈاکٹر ماجد علی، چوہدری بشارت محمود اور دیگر ارکان شامل تھے۔ وفد نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ کی سربراہی میں ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات کی، جس میں سیکرٹری جنرل ملک فیاض نثار کھوکھر، سیکرٹری شعیب اشرف بھٹی، نائب صدور آصف کنول خان اور نعیم مصطفیٰ مرزا، جوائنٹ سیکرٹری محمد زبیر خان، فنانس سیکرٹری نعمان علی، لائبریری سیکرٹری راحیل حفیظ رانا سمیت دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔
وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں ادارہ جاتی گورننس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق سینڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سلیکشن بورڈز، پروموشن بورڈز اور دیگر آئینی فورمز کے بروقت اجلاس منعقد نہ ہونے سے شفاف فیصلہ سازی، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی نگرانی متاثر ہوئی ہے۔
وفد نے مالی معاملات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریزرو فنڈز کے استعمال، بجٹ اخراجات، اکاؤنٹس، مالی پالیسی، سیلف سپورٹنگ پروگرام اور دیگر مالی فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مزید کہا کہ جامعہ میں متعدد فنڈز اور ملازمتوں میں شفافیت کا فقدان ہے، جبکہ اختلافِ رائے، اظہارِ رائے کی آزادی، تنظیم سازی اور علمی مکالمے کے ماحول کو بھی مطلوبہ فروغ نہیں مل سکا۔ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کے خلاف کارروائیوں اور مبینہ ہراسانی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔