نئے صوبوں سے متعلق بیرسٹر سیف نے محسن نقوی کی تائید کردی
اپنے بیان میں بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی نئے صوبوں سے متعلق رائے قابلِ توجہ ہے، ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں، کیونکہ موجودہ نظام میں عوام کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ صرف تجاویز پیش کرنا کافی نہیں بلکہ نئے صوبوں کے قیام کیلئے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات اس وقت بیوروکریسی کے چند مخصوص حلقوں تک محدود ہیں، جس کے باعث عام شہریوں تک حکومتی سہولیات کی مؤثر رسائی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے انتظامی صوبوں کے قیام سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ممکن ہو سکے گی، جس سے عوامی مسائل کو مقامی سطح پر بہتر انداز میں حل کیا جا سکے گا، مضبوط بلدیاتی نظام بھی عوامی مشکلات کے فوری حل کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سابق مشیر اطلاعات نے ملک میں انتظامی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق حکمرانی کے نظام میں تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:سابق رہنما تحریک انصاف سعدیہ سہیل رانا کی گاڑی پر حملہ
واضح رہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ مختلف ادوار میں سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔