سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو پولیس نے گرفتار کر لیا
پولیس حکام کے مطابق انہیں دفعہ 144 کی خلاف ورزی، بغیر اجازت ریلی نکالنے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق سابق سینیٹر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر ایک ایسی ریلی میں شریک تھے جس کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں نافذ دفعہ 144 کے باعث عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عائد ہے، جس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے موقع پر موجود دیگر افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس معاملے میں مزید کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب مشتاق احمد خان کی جانب سے اس پیشرفت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:ن لیگ کے سینئر رہنما اور ایم این اے ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
واضح رہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے بعض مواقع پر دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات، احتجاج اور ریلیوں کے انعقاد کیلئے متعلقہ انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔