سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں انتظامی بحران، سابق ایم ڈی کی برطرفی کے بعد کارکردگی پر سوالات
.jpeg)
ذرائع کے مطابق طارق علی نظامانی نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور تقریباً ساڑھے سات سال تک مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے بعد یکم جنوری 2025 کو انہیں منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ تاہم چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے 6 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
.jpeg)

ادارے سے وابستہ افسران اور مختلف مبصرین کے مطابق سابق ایم ڈی کے دور میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، لینڈ فل مینجمنٹ، شکایات کے نظام میں بہتری، ماحولیاتی آگاہی اور صفائی کے انتظام کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چیئرمین بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ بھی مختلف مواقع پر ادارے کی کارکردگی کو سراہتے رہے، جبکہ طارق علی نظامانی کو مختلف اعزازات بھی دیے گئے۔
تاہم قیادت میں تبدیلی کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال پر عوامی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے میڈیا میں بھی مسلسل رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، جس سے ادارے کی موجودہ کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
— Usman Shani (@US11954) August 1, 2026
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں صفائی کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث عوامی اعتماد بھی مجروح ہو رہا ہے۔
— Usman Shani (@US11954) August 1, 2026
دوسری جانب ادارے کے اندرونی معاملات بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض ملازمین مختلف میڈیا اداروں سے رابطے میں ہیں اور مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں اور دیگر اندرونی معاملات سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی مگر ان کے سامنے آنے سے ادارے کے اندر موجود بے چینی واضح ہوتی ہے۔
حال ہی میں 29 ڈیلی ویج ملازمین کی برطرفی نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ برطرف کیے گئے ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہیں کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مبینہ طور پر جانبداری اور تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور انہیں کسی قسم کی ناقص کارکردگی کا نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

سابق منیجنگ ڈائریکٹر کی برطرفی کے حوالے سے بھی مختلف قانونی اور انتظامی نکات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایکٹ 2021 کے تحت منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری چار سال کے لیے کی جاتی ہے، تاہم طارق علی نظامانی کو اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس فیصلے کی وجوہات سے متعلق شفاف وضاحت سامنے آنی چاہیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قیادت میں تبدیلی، صفائی کے نظام پر بڑھتی تنقید، اندرونی انتظامی اختلافات اور ملازمین کی برطرفی جیسے معاملات نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی گورننس، شفافیت اور کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ادارے کی ساکھ بحال ہو اور کراچی کے شہریوں کو صفائی کی بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔