نیب مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کا 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ آگیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے فورم سے متعلق اہم آئینی تنازع کا فیصلہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے مقدمات کی دوسری اپیل اور اس سے متعلق زیرِ التوا کارروائیاں وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے دائرۂ اختیار میں آئیں گی۔
24 جولائی 2026 کو جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں قومی احتساب آرڈیننس میں شامل کی گئی دفعہ 32-A اور آئین کے آرٹیکل 175F کی تشریح کی گئی۔
عدالت کے مطابق 5 مارچ 2026 کو قومی احتساب آرڈیننس میں شامل کی گئی دفعہ 32-A کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ سزا یافتہ شخص یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل احتساب 30 روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ
دورانِ سماعت ملزم عامر محمود کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت درخواستِ ضمانت ایک الگ قانونی کارروائی ہے، جبکہ دفعہ 32-A صرف دوسری اپیل کا ذکر کرتی ہے، اس لیے ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں قابلِ سماعت ہے۔
اس کے برعکس اٹارنی جنرل اور نیب کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ جب اصل اپیل وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں منتقل ہو چکی ہے تو اسی مقدمے سے متعلق ضمانت کی درخواست بھی اسی فورم پر سنی جانی چاہیے، کیونکہ ایک ہی مقدمے کی مختلف کارروائیاں دو الگ اعلیٰ عدالتوں میں تقسیم نہیں کی جا سکتیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواستِ ضمانت اصل مقدمے سے الگ یا آزاد کارروائی نہیں بلکہ اسی مقدمے سے پیدا ہونے والا ضمنی معاملہ ہے، لہٰذا اصل اپیل وفاقی آئینی عدالت میں اور ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں رکھنے سے متوازی کارروائی، قانونی ابہام اور متضاد فیصلوں کا خدشہ پیدا ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی دائرۂ اختیار کسی فریق کی رضامندی، سابقہ روایت، عوامی دباؤ یا عدالت کی خواہش سے نہیں بلکہ صرف آئین اور قانون سے متعین ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سابق مقدمے میں نیب کی جانب سے دائرۂ اختیار پر اعتراض نہ اٹھانے سے سپریم کورٹ کو ایسا اختیار حاصل نہیں ہو جاتا جو موجودہ آئینی اور قانونی فریم ورک کے تحت اس کے پاس موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل کا باقاعدہ قانونی حق فراہم کیے جانے کے بعد ملزمان کا عدالتی علاج ختم نہیں ہوا بلکہ صرف اس کا فورم تبدیل ہوا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ یہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی کشمکش یا کسی مخصوص سیاسی شخصیت کے مقدمات سے متعلق فیصلہ ہے۔ عدالت کے مطابق یہ اصولی فیصلہ تمام نیب مقدمات، استغاثہ اور ملزمان پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو نیب مقدمات کا حتمی اپیلی فورم قرار دیا ہے تو کوئی بھی فریق اپنی پسند یا سہولت کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کر سکتا۔ عدالت نے زور دیا کہ فورم کا تعین شخصیات نہیں بلکہ آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مضبوط عدلیہ وہی ہے جو اپنے آئینی اختیارات اور حدود دونوں کا احترام کرے، اور ہر عدالت صرف وہی اختیار استعمال کرے جو اسے آئین اور قانون کے تحت حاصل ہے۔