لاہور ہائیکورٹ کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
تحریری حکم میں کہا گیا کہ شہری کی عدم پیشی پر فیملی کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا، شناختی کارڈ کسی بھی شہری کی شناخت ثابت کرتا ہے کسی بھی شہری سے یہ حق نہیں چھینا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قومی شناختی کارڈ فیملی کورٹ کی جانب سے بلاک نہیں کیا جا سکتا ، لاہور ہائیکورٹ سیشن کورٹ اور فیملی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے لاء کلرکس کی 18 اسامیوں کا اعلان کر دیا
خیال رہے کہ شہری ناصر علی رانجھا نے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست گزار کی اہلیہ نے نان و نفقہ کیس میں ڈگری پر عملدرآمد کروانے کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے فیصلے کو سیشن کورٹ گجرات میں بھی چیلنج کیا گیا تھا۔