اینٹی کرپشن نے ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر مد بر کو حراست میں لے لیا
ڈی جی اینٹی کرپشن کے مطابق ایم ایس میو ہسپتال کے نام پر ان کے ڈرائیور نے رشوت لی، ابھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، انکوائری کر رہے ہیں، کچھ روز پہلے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ایم ایس کی رشوت لیتے ویڈیو جاری کی تھی۔
دوسری جانب ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر مدبر کے مبینہ اغواء کےخلاف تھانہ گوالمنڈی لاہور میں مقدمہ کی درخواست جمع کرادی گئی، درخواست میو ہسپتال کے سکیورٹی سپروائزر عبدالروف کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نامعلوم افراد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
درخواست کے متن میں لکھا گیا کہ دوپہر تقریباً 3 بجے دفتر کے باہر دو نجی گاڑیاں آکر رکیں، ایک گاڑی پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی جبکہ دوسری گاڑی پر نمبر پلیٹ نصب تھی۔
متن کے مطابق گاڑیوں سے 6 افراد اترے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے ایم ایس دفتر میں داخل ہوئے، گریڈ 19 کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالمدبر رحمان کو زبردستی دفتر سے باہر نکال کر گاڑی میں بٹھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کیلئے 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی منظوری
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نامعلوم افراد نے اپنی شناخت یا کسی قانونی حکم نامے کے متعلق ہسپتال انتظامیہ کو کچھ نہیں بتایا، کارروائی سے قبل یا بعد میں چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، وائس چانسلر یا ایڈمن کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
متن کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جا رہی ہے، پولیس کے حوالے کی جائے گی، غیر قانونی اقدام پر فوری مقدمہ درج کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج، داخلی و خارجی ریکارڈ اور بیانات تفتیش کا حصہ بنائے جائیں۔