وہاڑی: 18 سالہ نوجوان پر مسجد کے باہر قاتلانہ حملہ
متاثرہ نوجوان عبداللہ کو تشویشناک حالت میں پہلے ٹی ایچ کیو اسپتال بورے والا منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے مزید علاج کے لیے ڈاکٹرز ہسپتال لاہور ریفر کر دیا گیا۔
اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ عبداللہ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تاکہ ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں انصاف کے حصول کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر بورے والا میں درج کر لیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق واقعہ 12 جولائی 2026 کی شام پیش آیا، عبداللہ اپنے بھائی اور کزن کے ہمراہ شام کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد گیا تھا۔ نماز کے بعد تینوں الگ الگ باہر نکلے۔ عبداللہ مسجد کے باہر چند لمحے ہی کھڑا تھا کہ ایک موٹرسائیکل پر سوار تین نامعلوم افراد وہاں پہنچے، موٹرسائیکل پر سوار دو افراد کے پاس پستول تھے۔
مدعی کے مطابق ملزمان نے عبداللہ کے قریب آتے ہی بغیر کسی بات چیت کے اندھا دھند فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں عبداللہ کو 13 گولیاں لگیں، جن کے باعث اس کے جسم پر 26 داخلی اور خارجی زخم آئے، جن میں سینے پر لگنے والی گولیاں بھی شامل ہیں، حملہ آور واردات کے بعد اپنے چہرے چھپائے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔
اہلخانہ کے مطابق یہ ان کے خاندان پر پہلا حملہ نہیں ہے، 6 اگست 2025 کو عبداللہ کے والد جو علاقے کی ایک معروف شخصیت تھے، انہیں مبینہ طور پر پانچ افراد نے قتل کر دیا، اسی حملے میں عبداللہ کے ایک چچا شدید زخمی ہوئے جبکہ دوسرے چچا مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق اس قتل کی وجہ زمین کا تنازع تھا، عبداللہ کے والد نے مبینہ طور پر زمین کے معاملے پر قانونی راستہ اختیار کیا تھا، جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔
اہلخانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ذاتی انتقام لینے کے بجائے عدالت سے انصاف کے منتظر رہے اور گزشتہ تقریباً ایک سال سے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق والد کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ 17 یا 18 جولائی 2026 کو متوقع تھا، جبکہ عبداللہ پر حملہ اس سے چند روز قبل کیا گیا۔ اسی وجہ سے اہلخانہ کو شبہ ہے کہ یہ حملہ مقدمے پر دباؤ ڈالنے اور خاندان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ تاہم پولیس نے اس حوالے سے کسی مخصوص محرک یا ملزمان کی شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
پولیس کے مطابق مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 109 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر عبداللہ کے بھائی کی مدعیت میں درج ہوئی، تفتیشی حکام مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، جس کے باعث ان کی فوری شناخت نہیں ہو سکی، تاہم شواہد کی بنیاد پر ملزمان تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔