وزیراعلی سہیل آفریدی کو بھائی کی مبینہ مداخلت پر پی ٹی آئی ایم پی اے کا خط
اپنے خط میں عبدالغنی آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ ضلع خیبر کے حلقہ پی کے 71 میں نوید آفریدی مبینہ طور پر کھلی کچہری کا انعقاد اور انکی سرپرستی کرتے ہیں جبکہ سرکاری محکموں کے افسران کو ان تقریبات میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے، انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شرکت سے انکار کرنے والے افسران کو تبادلوں کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے سے خالد مقبول نے رکوایا: مصطفیٰ کمال
رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے ایک منتخب عوامی نمائندے کے طور پر انکی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، ان کے مطابق وہ اس معاملے سے پہلے بھی متعدد بار وزیر اعلیٰ کو آگاہ کر چکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ذریعے بھی شکایت پہنچائی گئی ہے تاہم اب تک کوئی موثر کاروائی نہیں کی گئی۔
عبدالغنی آفریدی نے ضلعی انتظامیہ اور بعض سرکاری افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورت حال جوں کی توں رہی تو وہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے مزید قانونی اور سیاسی اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔