یورپ جانیکی خواہش: 4 برس میں 335 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے
ایف آئی اے دستاویزات کے مطابق جون 2023 سے اب تک مختلف ممالک کے سمندری راستوں پر 7 مہلک کشتی حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں پاکستانی متاثر ہوئے۔
ان حادثات نے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کے خطرناک نیٹ ورکس پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق جون 2023 میں یونان جاتے ہوئے پیش آنے والے کشتی حادثے میں 226 پاکستانی سوار تھے، جن میں سے 207 جاں بحق ہو گئے جبکہ صرف 19 افراد کو زندہ بچایا جا سکا۔
دسمبر 2024 میں یونان ہی کے راستے یورپ جانے کی ایک اور کوشش حادثے میں بدل گئی، اس کشتی میں 69 پاکستانی موجود تھے، جن میں سے 25 جان کی بازی ہار گئے جبکہ 44 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں مراکش کے قریب کشتی حادثہ پیش آیا جس میں 70 پاکستانی سوار تھے، اسی طرح فروری 2025 میں لیبیا کے قریب کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 40 پاکستانیوں کی شناخت ہوئی، جن میں 23 جاں بحق جبکہ 13 زندہ بچ گئے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 2025 اور 2026 کے دوران لیبیا سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششوں کے دوران کشتی ڈوبنے کے 4 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے، یہ حادثات فروری، اپریل اور اکتوبر 2025 جبکہ اپریل 2026 میں پیش آئے۔
ان چاروں حادثات میں مجموعی طور پر 102 پاکستانی متاثر ہوئے، جن میں سے 71 جاں بحق جبکہ 30 افراد زندہ بچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: تارکینِ وطن کی کشتی المناک حادثے کا شکار، 14 افراد ہلاک
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کی کوششیں جاری ہیں، انسانی اسمگلر بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر شہریوں کو خطرناک سمندری سفر پر آمادہ کرتے ہیں، جو اکثر موت کے سفر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل کشتی حادثات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غیر قانونی امیگریشن روکنے، انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔