نئی آٹو پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں داخل
تفصیلات کے مطابق آٹو پالیسی پر حکومتی کوششوں میں تاخیر ہوئی ہے، یکم جولائی کو آٹو پالیسی لانے کی کوشش تھی لیکن اب اگست کے پہلے ہفتے لائے جانے کا امکان ہے کیونکہ اس پر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مزید مشاورت کی جائے، خاص طور پر وزارت خزانہ، وزارت کامرس اور ایف بی آر اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی مزید مشاورت کرے اور وزارت قانون مشاورت میں معاونت کرے ۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
رپورٹ کے مطابق ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے بھی بات چیت کی جائے گی ، ٹیکسز سے متعلق پانچ سالہ لانگ ٹرم معاملات پر مشاورت کی جائے گی ، چاہ رہے تھے کہ اس وقت جو آٹو پالیسی ہے وہ روزگارم یں اضافہ کرے، سرمایہ کاری بڑھائے اورتمام گاڑیوں کے لیے اقوام متحدہ کے62 سیفٹی سٹینڈرڈز اس پالیسی میں اپنائے جائیں گے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ حکومت کوشش کرے گی کہ ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کو فروغ دیاجائے اور فیول گاڑیوں کی تیاری کم سے کم کی جائے، جدید ٹیکنالوجی کی گاڑیاں تیار کی جائیں، تاہم ٹیکس معاملات پر مانیٹری فنڈ سے مشاورت ہوگی۔