پنجاب حکومت کا "اپنا گھر، محفوظ گھر" پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت "اپنی چھت، اپنا گھر" اور "اپنی زمین، اپنا گھر" پروگرامز کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں پنجاب حکومت کے فلیگ شپ ہاؤسنگ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
دوران اجلاس فیصلہ کیا گیا کہ "اپنی چھت، اپنا گھر" پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر موجودہ گھروں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی سہولت متعارف کرائی جائے گی۔
نئے پروگرام کے تحت خستہ حال، بوسیدہ اور کمزور چھتوں والے گھروں کی مرمت اور بحالی کے لیے 5 لاکھ روپے تک معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ گھروں پر نئی منزل یا اضافی فلور بنانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک سود فری آسان اقساط پر قرض دینے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے وقت صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ہی اچھی گورننس کی پہچان ہوتے ہیں۔
مریم نواز نے ہدایت کی کہ گھروں کی تعمیر اور بہتری کے لیے آسان قرض کا حصول مزید سہل بنایا جائے اور غریب شہریوں پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
یہ بھی دیکھیں: حکومت کا چھوٹے کاشتکاروں کیلئے بلاسود قرض پروگرام کا اعلان
اجلاس میں "اپنی چھت، اپنا گھر" پروگرام کی کامیابیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت ایک لاکھ سے زائد گھر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں کے لیے بلا سود آسان اقساط پر قرض منظور کیے گئے۔
اب تک ایک لاکھ 70 ہزار خاندانوں کو قرض فراہم کیا جا چکا ہے جبکہ منصوبے کے لیے 217.8 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں ایک لاکھ 34 ہزار 343 گھر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ساڑھے 27 ہزار سے زائد گھر تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 12 لاکھ 78 ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنا کھیت اپنا روزگار سکیم، وزیراعلیٰ مریم نواز نے قرعہ اندازی کر دی
اجلاس میں "اپنی زمین، اپنا گھر" پروگرام پر پیش رفت رپورٹ بھی پیش کی گئی جس کے تحت 23 اضلاع میں 2 ہزار پلاٹ فراہم کیے گئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جن بے گھر خاندانوں کو مفت پلاٹ دیے گئے ہیں، انہیں گھر بنانے کے لیے قرض کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ "اپنی چھت، اپنا گھر" اور اس سے منسلک تمام پروگرامز میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔