حکومت کا چھوٹے کاشتکاروں کیلئے بلاسود قرض پروگرام کا اعلان
اس اسکیم کے تحت تقریباً ساڑھے 7 لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جائے گی تاکہ زرعی لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے، اسی طرح زرعی مشینری کے لیے 5 ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی گئی ہے۔
حکومت نے کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو 20 ارب روپے کا خصوصی پیکیج دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسانوں کو ریلیف فراہم کرنا اور زرعی پیداوار کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی شعبے کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے 20 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں، اس فنڈ کے ذریعے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور حفاظتی اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔
دوسری جانب بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 3 ارب روپے کی سبسڈی بھی بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے تاکہ پانی کی کمی کے مسئلے کو کم کیا جا سکے اور زرعی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر بیٹھے ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، نئی سہولت متعارف
اسی طرح وزیراعظم یوتھ بزنس اور زرعی پروگرام کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد نوجوانوں کو زرعی کاروبار کی طرف راغب کرنا اور انہیں روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے زرعی معیشت مضبوط ہوگی اور چھوٹے کسانوں کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آئے گی۔