ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی

سینئر رہنما متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار
سینئر رہنما متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کی/ فائل فوٹو
Updated | Published July, 4 2026 |
کراچی (ویب ڈیسک): متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اور قومی اسمبلی کی 22 نشستوں سے استعفے دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی سخت دھمکی دے دی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف کہتے ہیں کہ گورنر شپ چھیننے میں ان کا کوئی تعلق نہیں، لیکن اگر یہ کسی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے تو ایم کیو ایم کو گورنر شپ فوری واپس کی جائے۔

انہوں نے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ کارکنان کی بازیابی کے لیے نام دے دیے گئے ہیں، گیس و بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے، اور مقامی پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سے متعلق الزامات کے ثبوت پیش کیے جائیں، رانا ثنا اللہ

ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ فیکٹری کیس کا نام لے کر ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے جبکہ سندھ حکومت اس کیس کے عدالتی فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کی درخواست پر چلی گئی ہے۔

انہوں نے ترقیاتی منصوبوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے فور منصوبے کی لاگت 25 ارب سے بڑھ کر 300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد یونیورسٹیوں کو وافر فنڈز نہیں دیے گئے۔ پچھلے 18 سالوں میں 25 ہزار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر صرف ایک ‘شاہراہِ بھٹو’ بنا کر شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں، جبکہ 2022 میں جسٹس گلزار احمد نے بھی ہماری پٹیشن پر مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کا حکم دیا تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے شدید شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ 30 مارچ 2022 کے معاہدے کے بعد بلاول بھٹو نے ہم سے کوئی میٹنگ نہیں کی اور صوبائی حکومت مکمل طور پر ایکسپوز ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں کوٹہ سسٹم اور جعلی ڈومیسائل پر کمیشن بنانے کی شقیں بھی شامل تھیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ اب ہم وزیر اعظم شہباز شریف کو آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ خود مداخلت کریں، کراچی میں 3 سے 4 دن قیام کریں اور معاہدے کی تمام 18 شقوں پر عملدرآمد کروائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کے عوام سڑکوں پر ہوں گے جنہیں روکنا پھر کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.83 ▼ 0.30
🇪🇺 Euro EUR → PKR 317.87 ▼ 0.11
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 371.09 ▼ 0.11
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 74.07 ▲ 0.24
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.65 ▼ 0.07
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 40.92 ▼ 0.05
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 421,822 ▲ 4,442
Gold 22K Per Tola 386,670 ▲ 4,071
Gold 21K Per Tola 369,094 ▲ 3,886
Gold 18K Per Tola 316,367 ▲ 3,331
Silver Per Tola 6,185 ▲ 89
Platinum Per oz (USD) 1,584 ▲ 31.6%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 299.50
Diesel HSD Per Litre 199.98
High Octane Per Litre 445.00
Kerosene Per Litre 233.90
LPG Per Kg 303.81
ضرور پڑھیں