سیاسی و معاشی بحران کا حل مذاکرات میں ہے، رانا ثناء اللہ
ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف چار مرتبہ اپوزیشن ارکان کے پاس گئے اور انہیں باقاعدہ مذاکرات کی پیش کش کی تاہم اپوزیشن کی جانب سے اب تک اس پر مثبت اور واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر انہوں نے بھی محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سمیت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس پر انہیں جواب ملا ک پارٹی کے اندر مشاورت کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان
رانا ثناءاللہ نے کہا حکومت کو اپوزیشن سے رابطوں میں کوئی رکاوٹ نہیں تاہم اگر کوئی جماعت اپنے قائد کی اجازت کے بغیر مذاکرات نہیں کرسکتی تو یہ اسکا اندرونی معاملہ ہے جس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے قانونی مقدمات عدالتوں میں لڑنے کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل بھی جاری رکھے، خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کی کارکردگی بہتر بنائے اور وفاق و پنجاب میں موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت یہ سمجھ کر انتخابی عمل سے دور رہے کہ اسے فائیدہ نہیں ہوگا تو یہ مناسب حکمت عملی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری سیاست میں ہر انتخاب میں حصہ لینا اور عوام سے رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔