سندھ طاس معاہدہ بحال کیے بغیر امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو
اسلام آباد میں "سندھ معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عالمی سیاست اور سلامتی کا اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا امن کا تصور نہیں کرسکتی تو پھر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں امن کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی کو دباؤ کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی روح کے خلاف ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف خطرناک رجحان ہے بلکہ یہ علاقائی امن کیلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کو مذاکرات کیلئے ماحول بنانا ہوگا: بیرسٹر گوہر علی
بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا بنیادی سہارا ہے۔ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے، اس لیے اس معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا موثر جواب دیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ جنگ بندی سمیت تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کیا ہے مگر بھارت نے اپنے وعدوں کو مکمل پاسداری نہیں کی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی عوام کے بنیادی حقوق، آبی وسائل اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر آواز اٹھاتا رہے گا۔
بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین نے بھی شرکت کی اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانے پر زور دیا۔