احتجاج کیس: علیمہ کی وزراء کو بطور گواہ طلب کرنیکی درخواست مسترد
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے درخواست کی مخالفت میں دلائل دیے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اپنایا کہ عدالتی گواہ پارٹی نہیں ہوتا وکیل صفائی اپنے دفاع میں کسی گواہ کو بلاسکتا ہے، وکیل صفائی آج تک کوئی مواد اور دستاویز اپنے دفاع میں پیش نہیں کرسکا۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی گواہان کو طلب کرنے کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، عدالتی گواہان کو طلب کرنے کی درخواست کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے، ضابطہ فوجداری کے تحت عدالتی گواہان کی درخواست غیر متعلقہ ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیرشاہ نے کہا کہ عدالت اگر متفق نہیں تو قانون کے مطابق گواہان کو طلب نہیں کیا جا سکتا، وکیل صفائی شروع دن سے الزامات سے انکار کر رہے ہیں جبکہ ثبوت عدالت کے سامنے ہیں۔
بعدازاں عدالت نے علیمہ خان کی جانب سے وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت 21 گواہان کو طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ کی محسن نقوی، عطا ء تارڑ، عظمیٰ کو طلب کرنے کی درخواست
دریں اثناء عدالت نے وفاقی و صوبائی وزراء سمیت 21 گواہان کی طلبی کی درخواست مستر د کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی اور درخواست گزار علیمہ خان کو آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دے دیا۔
دوسری جانب وکیل صفائی ایڈووکیٹ فیصل ملک نے کہا کہ ہم اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں، صفائی کے گواہ پیش کرانا ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔