حکومت کا ہرقسم کی فیول سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کا ساتواں اجلاس ہوا جس میں موٹر سائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے جاری سبسڈی اسکیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دوران اجلاس بتایا گیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جا چکا ہے، اب ملکی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آچکی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں سبسڈی پروگرام جاری رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے اپریل 2026 میں فیول سبسڈی اسکیم اس وقت شروع کی گئی تھی جب عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھی تھیں۔
فیول سبسڈی پروگرام کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو 100 روپے فی لٹر کے حساب سے ماہانہ 20 لٹر تک رعایت دی جا رہی تھی یعنی ایک موٹر سائیکل مالک کو تقریباً 2 ہزار روپے ماہانہ ریلیف مل رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیول سبسڈی سکیم: ایک ساتھ 4 ہزار روپے جاری کرنے کا فیصلہ
اسی طرح گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے ماہانہ سبسڈی کی رقم 70 ہزار ، بڑی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے 80 ہزار تک جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک سبسڈی رکھی گئی تھی تاکہ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سبسڈی پروگرام ختم کیا جائے گا، تاہم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ مستقبل کے عوامی ریلیف پروگرامز کے لیے ڈیٹا، شفافیت اور ترسیل کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔