وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات، اہم معاملات پر تبادلہ خیال
ملاقات میں صوبے کے حقوق، فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر بات ہوئی۔ صوابی کے تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل، خصوصاً فی کلو 390 روپے کے نئے ٹیکس کے خاتمے ، خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگی، اور پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث صوبے میں کاروبار نہ ہونے کے برابر رہ جانے کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔
یہ بھی پڑھیں: کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز
عمران خان، ان کی اہلیہ اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے ناروا سلوک، ملاقاتوں پر پابندی، ان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق کی پامالی، اور اس کے علاوہ میثاقِ جمہوریت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیر خزانہ کو پاس بلاکر ہدایات دیں۔ بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سینیٹر رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام سے اسد قیصر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد نے وزیرخزانہ کے چیمبر میں ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد ٹیکس چھوٹ پر فیصلہ کریں گے۔