خیبرپختونخوا بجٹ: کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ ایوان میں پیش کیا تاہم اس دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور نعرے بازی بھی کی گئی۔
بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے، بجٹ کا مجموعی حجم 2 ہزار 122 ارب روپے رکھا گیا ہے، اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، موجود مالی سال میں 7 ہزار 952 نئی آسامیوں کی تخلیق کی ہے،ضلعی حکومتوں کے لیے 52.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں اے آئی پی کی مد میں 52 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 5 ارب 18 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے سستا کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ جاری اخراجات کے لیے ایک ہزار 645 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، کم از کم ماہانہ اجرت 5 ہزار روپے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں امن و امان کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 200 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب اور صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے رکھنے کی تجویز شامل ہے، بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب جبکہ خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین اور احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی دیکھیں: انسٹیٹیوٹ آف سرجیکل آرتھو پیڈک اور چلڈرن ہسپتال فور کی منظوری
انہوں نے بتایا کہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب جبکہ تعلیم کے لیے 468 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب، محکمہ داخلہ کے لیے 29 ارب اور ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ زراعت کے لیے 29 ارب، توانائی کے لیے 42 ارب اور زکوٰۃ کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔