ٹیلی کام کمپنیاں جہاں چاہیں ٹاور لگا سکیں گی، بل قومی اسمبلی سے منظور
قومی اسمبلی میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور کرلیا گیا جس کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ترمیمی بل کے مطابق نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔
موبائل فون یا ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور لگانے کے لیے جگہ نہ دینے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ بھرنا ہو گا۔
اس حوالے سے بعض سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد یا گھر پر ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی اجازت دے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کا ب فارم کب اور کیسے بنوانا ہے؟ نادرا نے طریقہ کار بتا دیا
سینیٹرز کا مزید کہنا تھا کہ جب تک واضح قانونی تحفظات اور باہمی رضامندی کا کوئی شفاف طریقہ کار نہیں بنایا جاتا، تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے شہریوں کا استحصال ہو سکے۔