سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ

سپریم کورٹ
چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا/ فائل فوٹو
Updated | Published May, 6 2026 |
اسلام آباد: (سنو نیوز) چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہم پلہ عدالتیں ہیں، وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے، آرٹیکل 189 ایک عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا، آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانا آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ کلب شدہ آئینی اور ریگولر مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے، آئینی مقدمات وفاقی آئینی عدالت جبکہ ریگولر مقدمات سپریم کورٹ سنے گی، متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے عدالتی احترام کا اصول اختیار کیا جائے گا، دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے دائرۂ اختیار کا احترام کرتے ہوئے فیصلے کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت مزدور کی اجرت 40 ہزار روپے ریگولیٹ کرنے کیلئے پُرعزم

سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی، عام سول اور ریگولر اپیلوں کا اختیار بدستور سپریم کورٹ کے پاس رہے گا، ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو خصوصی آئینی دائرۂ اختیار حاصل ہے، ہائی کورٹ کے آئینی نوعیت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی، کرایہ داری اور بعض خاندانی معاملات وفاقی آئینی عدالت کے اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات ڈی کلب کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ سول نوعیت کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت رہیں گی۔ سپریم کورٹ نے آئینی درخواست سے متعلق اپیل وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے میں لکھا کہ توہین عدالت کے مقدمات متعلقہ عدالت ہی سنے گی جس کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہو، سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق توہین عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ میں چلے گی، توہین عدالت کا اختیار عدالت کے وقار اور عملداری سے جڑا ہے۔