حکومت مزدور کی اجرت 40 ہزار روپے ریگولیٹ کرنے کیلئے پُرعزم

پنجاب حکومت مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور ملازمین کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے کو ریگولیٹ کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
فائل فوٹو
Updated 17 گھنٹے قبل | Published May, 5 2026 | Muhammad Bilal
لاہور: (سنو نیوز) پنجاب حکومت مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور ملازمین کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے کو ریگولیٹ کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

پنجاب اسمبلی میں ملازمین سوشل سکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل گزشتہ روز کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بل میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق قانونی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت 1965 کے ایکٹ میں ترامیم ہوں گی۔

بل کے متن کے مطابق صوبے میں مزدور کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ہو چکی تاہم 1965 کے مسودہ قانون میں پرانی تنخواہ کی حد کے دائرہ کار کی شق برقرار ہے، کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ہو چکی مگر زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22 ہزار ابھی بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا گریجویٹس کو ماہانہ 60 ہزار دینے کا اعلان

متن میں لکھا گیا کہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22 ہزار روپے مقرر رہنے سے قانونی و محکمانہ پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جولائی 2022 سے ادا کی گئی سوشل سکیورٹی شراکتوں کو درست قرار دینا ناگزیر ہے، قانونی اصلاحات نا ہونے کے باعث محکمانہ کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گزشتہ روز اسمبلی اجلاس میں بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تاہم بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب سلیم حیدر دیں گے۔