بلاسود 3 ہزار روپے ماہانہ میں الیکٹرک بائیک حاصل کریں

پنجاب حکومت
پنجاب حکومت نے اساتذہ کے لیے ای بائیک اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے نئے منصوبے کا اعلان کیا/ فائل فوٹو
Updated | Published May, 1 2026 |
لاہور: (ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے اساتذہ کے لیے ای بائیک اسکیم کے تحت بلا سود آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ماہانہ قسطیں تقریباً 3 ہزار 600 روپے سے 4 ہزار 200 روپے تک متوقع ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے صوبے بھر کے اساتذہ کے لیے سفری سہولیات بہتر بنانے اور ان کے ٹرانسپورٹ اخراجات کم کرنے کے مقصد سے ای بائیک اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اسکیم کے تحت ہر الیکٹرک بائیک کی تخمینی قیمت 2 لاکھ روپے سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔ پنجاب حکومت مجموعی لاگت کا 30 سے 40 فیصد حصہ سبسڈی کی صورت میں برداشت کرے گی، جبکہ باقی رقم اساتذہ دو سے تین سال کے دوران آسان اقساط میں ادا کریں گے۔ حکام کے مطابق یہ اسکیم ایسے اساتذہ کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے جو روزانہ آمدورفت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر سائیکل سواروں، ٹرانسپورٹرز کیلئے سبسڈی میں توسیع کا فیصلہ

بلا سود سکیم کے تحت ماہانہ قسطیں 3 ہزار 600 روپے سے 4 ہزار 200 روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جس سے یہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لیے ایک قابلِ برداشت سہولت بن جائے گی۔ حکام کا خیال ہے کہ ای بائیک اسکیم ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراجات میں نمایاں کمی لائے گی اور خاص طور پر دور دراز اور نیم شہری علاقوں میں اساتذہ کے لیے اپنے تعلیمی اداروں تک رسائی آسان بنائے گی۔

ای بائیک اسکیم کے لیے درخواستیں جلد پنجاب ٹیچرز فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن وصول کی جائیں گی۔ اہل اساتذہ کو اپنا شناختی کارڈ، سروس سرٹیفکیٹ، درست ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ سائز تصویر جمع کرانا ہوگی۔

درخواست جمع کرانے کے بعد امیدوار تصدیقی سلپ ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جبکہ حتمی اہلیت سے متعلق اطلاع ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے دی جائے گی۔ حکومت کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ای بائیک اسکیم کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم اساتذہ کی معاونت اور محکمہ تعلیم میں جدید سفری سہولیات کے فروغ کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔