حکومتی اعلامیے کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی ہدف بے زمین افراد کو باعزت روزگار فراہم کرنا، زرعی شعبے کو مضبوط بنانا اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی مالی حالت بہتر ہوگی بلکہ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

اہلیت کے معیار کے تحت درخواست دہندہ کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ عمر 18 سال سے زائد ہونی چاہیے۔ مزید برآں، درخواست دینے والا فرد بے زمین ہو یا اس کے پاس زیادہ سے زیادہ 10 مرلے کا صرف ایک رہائشی مکان ہو۔ کم آمدن والے گھرانوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ سرکاری ملازمین اور ان کے زیرِ کفالت افراد اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اساتذہ کیلئے ای بائیک سبسڈی پروگرام کا آغاز
درخواست کے لیے ضروری دستاویزات میں اصل شناختی کارڈ، پنجاب کا ڈومیسائل، بے زمین ہونے کا ثبوت اور رجسٹرڈ موبائل نمبر شامل ہیں۔ حکام کے مطابق درخواست دہندگان کی معلومات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور حقیقی مستحقین تک سہولت پہنچائی جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت منتخب افراد کو 5 ایکڑ تک زمین 10 سالہ لیز پر فراہم کی جائے گی، جس کا کرایہ صرف 100 روپے فی ایکڑ سالانہ مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، زمین کی بحالی اور کاشت کے لیے حکومت کی جانب سے 50 ہزار روپے فی ایکڑ تک ترقیاتی گرانٹ بھی دی جائے گی، جس سے کسان اپنی زمین کو قابلِ کاشت بنا سکیں گے۔
حکومت پنجاب نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور ہزاروں خاندانوں کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بنے گا۔ ابھی اپلائی کرنے کےلئے یہاں پر کلک کریں۔