لاہور ہائی کورٹ نے وزیر توانائی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو منظور کر لیا ہے، اویس لغاری نے اس فیصلے کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اصلاح قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر کے افسران کو دی جانے والی مفت بجلی ختم کر دی گئی ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق مفت بجلی یونٹس کا خاتمہ عوام کا ایک پرانا اور مسلسل مطالبہ تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام صارفین بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ حکومت ملک اور قوم کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات شفافیت، مالی نظم و ضبط اور صارفین کو ریلیف دینے پر مرکوز ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ٹرانسپورٹ ٹرمینلزعارضی طور پر بند
یہ اعلان لاہور ہائی کورٹ کے اس بڑے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں واپڈا اور پاور سیکٹر کے افسران کے لیے مفت بجلی کے خاتمے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔
اس سے قبل عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت یکطرفہ طور پر واپس نہیں لی جا سکتی کیونکہ یہ ملازمت کی شرائط کا حصہ ہوتی ہے۔
اب کیس کا فیصلہ وزیر توانائی کی درخواست کے حق میں آ گیا ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ معزز عدالت نے ہماری درخواست منظور کر لی ہے۔ یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے پورا کرنے کا اعزاز ہمیں حاصل ہوا ہے۔