مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں میرے پاس آئی تھیں اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کام کریں۔ علیمہ خان اور بہنیں سیاسی معاملات کو نہیں سمجھتیں، بانی پی ٹی آئی نے عہدے کی ذمے داری مجھ پر ڈالی ہے، میری جب بھی بانی پی ٹی آئی سے میٹنگ ہوگی تو میں استعفیٰ دے دوں گا، خواہش ہوگی کہ بانی چیئرمین میری بات مانیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کیلئے ناموں کی فہرست جاری
انہوں نے کہا کہ سیاست کو تجربہ کار لوگ سمجھتے ہیں، علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو جان بوجھ کر خائف کیا گیا، ہم نے ان کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ علیمہ خان اور مجھ میں دوریاں نہیں، یہ وقتی ری ایکشن یا ردعمل ہے، علیمہ خان نے 10 ہزار لوگ بلائے شاید وہ نہیں آئے اس لیے انہیں کچھ ہوا ہوگا۔
علیمہ بی بی کے بیان کے بعد شیر افضل مروت اور مشال یوسفزئی سب متحرک ہوگئے ہیں۔ سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی کو 9 اپریل کے جلسے کا بتایا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا جلسہ ملتوی کر دیں، امریکا ایران کا معاہدہ ہونا چاہیے، امن کا کردار ادا کرنا پاکستان کا فرض تھا، ہم بین الاقوامی سفارتکاروں سے رابطے میں تھے۔