کمیٹی نے متفقہ طور پر پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 منظور کیا جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال رکھنے کی سابقہ شق ختم کر دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق کم عمری کی شادی کو قابلِ دست اندازی پولیس، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار دیا گیا ہے جس سے فوری پولیس کارروائی ممکن ہوگی اور عدالت سے باہر تصفیے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بل میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی میں سہولت فراہم کرنے والے افراد جن میں بالغ شریک حیات، والدین یا سرپرست، نکاح رجسٹرار یا دیگر معاونین شامل ہیں، کو سات سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرسائیکل سبسڈی: محکمہ خزانہ پنجاب نے 24 ارب مانگ لئے
اس کے علاوہ ایسی شادی کے بعد اکٹھے رہنے کو بچوں کے ساتھ بدسلوکی قرار دیا گیا ہے جس پر مزید سخت سزائیں دی جائیں گی اور عدالتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مقدمات کا فیصلہ 90 دن کے اندر کیا جائے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے سیکرٹری بلدیات کو ہدایت دی کہ وہ اس بل کے تحت قواعد و ضوابط کا مسودہ 60 دن کے اندر تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کریں۔
کمیٹی کے مطابق یہ قانون کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، صنفی عدم مساوات کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ اجلاس پنجاب اسمبلی میں ایم پی اے محمد اشرف رسول کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر بلدیات اور متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔