وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 78 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی سے متعلق کوئی بھی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا
حکام کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک مخصوص اور شفاف طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، شرحِ مبادلہ اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کی سفارشات کی روشنی میں سمری تیار کی جاتی ہے، جس کے بعد وزارتِ خزانہ باقاعدہ منظوری دے کر نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی بڑی کمی یا اضافے کا اعلان صرف مستند اور سرکاری ذرائع کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا جعلی نوٹیفیکیشن عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں پر فوری یقین نہ کریں اور تصدیق کے لیے سرکاری ویب سائٹس، مستند میڈیا اداروں اور متعلقہ حکام کے بیانات کا انتظار کریں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہی ہیں، جن کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور غیر ضروری افواہیں پھیلانا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی تیز رفتار ترسیل کے باعث غلط خبروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ افواہوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔