یہ افسوسناک واقعہ تھانہ سٹی کی حدود میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کرکے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رہنما محمد روشان کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے محمد روشان خواجہ مد منڈان کے جنرل سیکرٹری تھے اور علاقے میں ایک متحرک سماجی و سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
لاش کو ضروری کارروائی کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد میت کو ورثا کے حوالے کیا جائے گا، واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ سندھ کا موٹر سائیکل سواروں کو 2 ہزار روپے دینے کا اعلان
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا، واقعے کی وجوہات جاننے کیلئے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ اہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔