وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ تمام موٹرسائیکل سوار اس سہولت کے مستحق نہیں ہوں گے، بلکہ صرف حقیقی ضرورت مند افراد کو ہی فائدہ دیا جائے گا۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جو ہیوی موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں وہ پیٹرول کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے سبسڈی کا دائرہ کار محدود رکھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس موٹرسائیکلوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، انہی کی تجاویز کی روشنی میں سبسڈی کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ایک جدید نظام کے تحت درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کون سبسڈی کیلئے اہل ہے اور کون نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ کا 60 فیصد کرائے بڑھانے کا اعلان
مشیر خزانہ نے کہا کہ مستحق افراد کی شناخت کیلئے سماجی بہبود کے پروگراموں کا ڈیٹا بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے،عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک نے قیمتیں بہت زیادہ بڑھائی ہیں، تاہم حکومت نے عوام پر بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔