ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب صوبائی وزرائے اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
دوران اجلاس چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے، ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے اور عوام پر اس کے اثرات کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی تاکہ ایک مربوط قومی حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔
اجلاس میں علاقائی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں آیا اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ مستقبل کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حکومت کا کفایت شعاری پلان سامنے آگیا
نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا، جن میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ حالیہ رابطے شامل ہیں جبکہ انہوں نے اپنے آئندہ دورۂ بیجنگ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو وزیرِ اعظم نے بارہا مسترد کیا اور کفایت شعاری اقدامات سے بچنے والی رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، اس ضمن میں سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، انہوں نے ہدایت کی کہ اقتصادی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی تیاری کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ فیصلے کیے جائیں۔
صدر نے عوامی آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت پر زور دیا جس میں ایندھن کے استعمال میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال اور مشترکہ سفری طریقوں کو فروغ دینے پر توجہ دی۔
اس کو بھی پڑھیں: حکومت کا ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور
صدر آصف علی زرداری نے ہدایت دی ہے کہ تیل اور گیس کی فراہمی کے دباؤ، بڑھتی ہوئی توانائی لاگت اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر عام آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے توانائی بچت اقدامات کے تحت ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی مخالفت کی جس پر اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔