سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز، حکومت کا کفایت شعاری پلان سامنے آگیا
توانائی بحران کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اس حوالے سے حکومت کا کفایت شعاری پلان بھی سامنے آ گیا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) توانائی بحران کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اس حوالے سے حکومت کا کفایت شعاری پلان بھی سامنے آ گیا۔

ذرائع کے مطابق قومی سطح پر فریقین سے مشاورت کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ توانائی اور فیول بچت کے لیے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی زیر غور ہے، ہائبرڈ ورکنگ ماڈل ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نافذ کرنے کی تجویز ہے، ہفتے میں پانچ دن ورکنگ والے سرکاری دفاتر کے لیے3 دن دفتر اور 2 دن آن لائن کام کی تجویز ہے جبکہ سروسز دفاتر میں 4 دن دفتر اور 2 دن آن لائن کام کرنے کی تجویز ہے۔

دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ ، آمدورفت اور وسائل میں کمی کا ہدف ہے، آن لائن حاضری کے لیے مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا جبکہ 65 فیصد لازمی حاضری کی شرط رکھی جائے گی، ہفتہ وار آڈٹ ریکارڈ لازمی ہو گا جس میں آن لائن اور آفس ورکنگ دونوں شامل ہوں گے۔

اسی طرح نجی دفاتر میں بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ کی تجویز زیر غور ہے، سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر سخت پابندیاں جبکہ خلاف ورزی پر کارروائی کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق غیر ضروری استعمال پر 3 ماہ کی فیول ریکوری اور گاڑی ضبطی جبکہ سینئر افسران کے لیے کمبائن ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی تجویز ہے، سرکاری دفاتر میں صبح ساڑھے 10 بجے سے پہلے اے سی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے جبکہ 60 دن میں 50 فیصد سرکاری دفاتر کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور

بازار اور شاپنگ سینٹرز رات ساڑھے 9 بجے بند کرنے کی تجویز ہے جبکہ شادی تقریبات ون ڈش، 200 افراد کی حد کے ساتھ رات 10 بجے تک اجازت کی تجویز ہے، بجلی و فیول سہولیات میں ملازمین کو 3 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی تجویز زیر غور ہے۔

انٹرنیٹ و ٹیلیفون ٹیکس میں اڑھائی فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر 5 فیصد ٹیکس اضافے کی تجویز ہے، ٹول ٹیکس میں فلیٹ 50 روپے اضافہ اور کمپیوٹرائزڈ کلیکشن کی تجویز ہے جبکہ عوام کو ٹرین سفر کی طرف راغب کرنے کے لیے ریلوے کرایوں میں کمی کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔