امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں عملے کی نقل و حمل محدود کر دی
امریکی سفارتخانے نے یوم علیؓ کے موقع پر بڑے مذہبی جلوسوں کے پیش نظر سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) امریکی سفارتخانے نے یوم علیؓ کے موقع پر بڑے مذہبی جلوسوں کے پیش نظر سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں اپنے عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی اور سفارتی عملے کو بڑے مذہبی جلوسوں اور سکیورٹی چیکنگ کے باعث محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی سفارتخانے کے مطابق یوم علیؓ کے موقع پر پاکستان میں بڑے مذہبی جلوسوں کی تیاری کے پیش نظر عملے کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں کیونکہ ان جلوسوں کے باعث ٹریفک میں خلل اور سکیورٹی خدشات کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے اور لاہور، کراچی اور پشاور میں امریکی قونصل خانوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان بھر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر مذہبی جلوسوں کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق 10 مارچ دوپہر 12 بجے سے احتیاطی تدبیر کے طور پر تمام امریکی اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے بعد کیوبا ہمارے نشانے پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان اجتماعات کے باعث بڑے ہجوم، شدید ٹریفک جام اور سکیورٹی چیکنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کی جا سکتی ہیں جس سے آمد و رفت سست ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلوسوں کے دوران بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل آ سکتا ہے، اس کے علاوہ جلوس کے راستوں کے قریب کچھ سڑکیں بند یا بلاک بھی کی جا سکتی ہیں جس کے باعث ٹریفک میں تاخیر اور متبادل راستوں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی سفارتخانے نے سفارتی عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں، اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور تازہ صورتحال کے لیے مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔

دوسری جانب لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانوں نے تاحال تمام قونصلر سروسز معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ امریکی شہریوں کو خدمات فراہم کرتا رہے گا۔

حکام کے مطابق جن افراد کی قونصلر اپوائنٹمنٹ طے شدہ ہے، انہیں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں آگاہ کیا جائے گا اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مزید معلومات کے لیے باقاعدگی سے اپنی ای میل چیک کرتے رہیں۔

ایڈوائزری میں سفارتی عملے کے لیے چند احتیاطی تدابیر بھی بتائی گئی ہیں جن میں بڑے عوامی اجتماعات سے دور رہنا، غیر ضروری توجہ سے بچنا، شناختی دستاویزات اپنے ساتھ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا شامل ہے۔

امریکی سفارتخانے کی اس سکیورٹی ایڈوائزری سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام بڑے اجتماعات اور ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں، عملے کی نقل و حرکت محدود کرنا ایک احتیاطی قدم ہے تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔  

ضرور پڑھیں