میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے، اس وقت توجہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے خاتمے پر مرکوز ہے، اس کے بعد آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے وینزویلا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں، ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر دیا گیا ہے، وینزویلا اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل کی آمدنی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے وینزویلا کی سیاست دان ڈیلسی روڈریگز کو صدارت کیلئے ایک مضبوط اور قابل شخصیت قرار دیا۔
اس سے قبل امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں، مستقبل میں ایران کے سپریم لیڈر بن سکتے ہیں، میں ایسے رہنما کو قبول نہیں کروں گا جو موجودہ پالیسیوں کو ہی جاری رکھے، ایران کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو ملک میں اتحاد اور امن کو فروغ دے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل کشیدگی، پاکستان کی یومیہ آمدن 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر اور برطانیہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل جیسے رہنما نہیں ہیں، انہیں موجودہ صورتحال میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اتحادیوں کو فوجی اڈے فراہم کرنے چاہئیں۔