رپورٹس کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی غیر ملکی پروازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی یومیہ پروازوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے، اس اضافے کے باعث پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی یومیہ آمدن بڑھ کر تقریباً 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق پروازوں کی تعداد میں اضافے سے روزانہ کی آمدن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، اس سے قبل عام دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے یومیہ تقریباً 550 سے 600 پروازیں گزرتی تھیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنے فضائی راستے تبدیل کر لیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی خدشات کے باعث کئی فضائی کمپنیاں محفوظ فضائی راستوں کو ترجیح دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کی فضائی حدود کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بصرہ میں ایک اور امریکی طیارہ گرنے کی اطلاع
دوسری جانب پاکستان نے تاحال بھارت کی ایئرلائنز کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے، جس کے باعث بھارتی پروازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو فضائی گزرگاہوں سے مزید مالی فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔