وزیراعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا۔
فوٹو سکرین گریب
اسلام آباد: (سنو نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا۔

قوم سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت شدید جنگی صورتحال میں ہے، معاملات تدبر اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، پورا خطہ اس وقت جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدیدمذمت کرتےہیں، یو اے ای، سعودی عرب، کویت، آذربائیجان اور بحرین پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں، ہم دوست ممالک کی سلامتی کواپنی سلامتی سمجھتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاک افواج ملکی سلامتی کیلئے کوشاں ہیں،بہادر مسلح افواج کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیارمیں نہیں ہے، حکومت نے تیل کی قیمت میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، مشکل حالات کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جائے گا، ہرممکن کوشش کریں گے کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی ادارے کل سے 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی،اضافہ ناگزیر ہو گا، سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے پٹرول میں 50فیصد کمی کی گئی ہے، سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے، کابینہ ارکان،وزرا اور مشیر 2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے،20 گریڈ اور اوپر کے سرکاری افسر جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے انکی 2 روز کی تنخواہ عوامی ریلیف کیلئے استعمال ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں 50فیصد عملہ ورک فرام ہوم کرے گا، سرکاری دفاتر ہفتے میں صرف 4 روز کھلیں گے، وفاقی و صوبائی وزرا کے سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی ہو گی، وفاقی و صوبائی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کےبیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پربھی پابندی عائد ہو گی جبکہ وزرائےاعلیٰ اور گورنرز پر بھی غیرملکی دوروں پر پابندی عائد ہو گی، سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری جگہوں پر ہوں گے، تمام سکولوں کو 2 ہفتے کی چھٹی دی جا رہی ہے، ہائرایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ 

ضرور پڑھیں