پنجاب: تعلیمی ادارے کل سے 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں کل 10 مارچ سے 31 مارچ تک صوبہ بھر کے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
فائل فوٹو
لاہور: (سنو نیوز) پنجاب حکومت نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں کل 10 مارچ سے 31 مارچ تک صوبہ بھر کے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی جبکہ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے،پٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کے لئے سرکاری فیول بھی بند کر دیا گیا جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی کر دی گئی۔

صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی، ناگزیر سکیورٹی کے لئے صرف ایک گاڑی صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسر کے ہمراہ ہو گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری دفاتر میں"ورک فرام ہوم " کا فیصلہ کیا ہے، صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا، سکولوں اور تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا عید سے قبل تنخواہیں اور پنشن ادا کرنے کا اعلان

شہریوں کی سہولت کے لئے ای بزنس اور "مریم کی دستک " کے تحت سروسز جاری رہیں گی، سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی، پنجاب میں سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر بھی پابندی لگا دی گئی جبکہ ہارس اینڈ کیٹل شو کا ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے پٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم جبکہ پی آئی ٹی بی کو پٹرولیم مصنوعات کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا ، ضلعی انتظامیہ، پولیس، پیرا اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیارکرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ سٹاف کی آمد و رفت بند کی جارہی ہے، دفاتر میں کام بند نہیں ہو گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ نجی سیکٹر کو ورک فرام ہوم، غیر ضروری تقریبات نہ کرنے اور صرف ضروری سٹاف بلانے کی ایڈوائزری ایشو کی جائے، تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اس کو بھی پڑھیں: طلبہ کیلئے فیول کارڈ متعارف کرانے کی تجویز

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اشیائے خور ونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے، بحرانی صورتحال کے پیش نظرعوام آؤٹ ڈور فنکشن نہ کریں، ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں، ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مشکل ترین بحران میں جراتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔ 

ضرور پڑھیں