اسلام آباد: بغیر اجازت عورت مارچ کا انعقاد، متعدد گرفتار
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں این او سی کے بغیر مارچ کے انعقاد پر پولیس نے مارچ کے متعدد شرکاء کو گرفتار کر لیا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں این او سی کے بغیر مارچ کے انعقاد پر پولیس نے مارچ کے متعدد شرکاء کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق عورت مارچ کے منتظمین کی جانب سے ایف سکس سے ڈی چوک تک عورت مارچ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا، مارچ میں شرکت کے لیے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے تو پولیس بھی حرکت میں آگئی۔

پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے ویمن رائٹس ایکٹوسٹ فرزانہ باری سمیت متعدد خواتین کو موقع سے گرفتار کر لیا، گرفتار ہونے والوں میں گیارہ خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔

عورت مارچ آرگنائزیشن کی رہنما نشاط مریم نے کہا کہ مارچ کے انعقاد کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ کو این او سی کے لیے ایک ماہ قبل درخواست جمع کروائی گئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگے پٹرول سے پریشان موٹرسائیکل سواروں کیلئے میگا ریلیف کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے منتظمین کو گاڑی سے باہر نکلتے ہی زبردستی گرفتار کر لیا، شرکاء کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، دھکے دیے گئے جس سے کچھ کارکنان زخمی بھی ہوئے، پولیس نے شرکاء کو گرفتار کرکے جی سیون تھانے منتقل کر دیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے باعث ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر پابندی عائد ہے، عورت مارچ کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی عمل میں لائی گئی۔ 

ضرور پڑھیں