پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان پر سنگین حالات آئے ہیں، پاک افغان تعلقات میں تناؤ ہے،ایران اسرائیل صورتحال آپ کے سامنے ہے،عوام پر پٹرول کا ایٹم بم گرا دیا گیا ،پی ٹی آئی اور کے پی حکومت اس کو مسترد کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 55روپے کے اضافے کو صوبائی حکومت نے یکسر مسترد کیا ہے،عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ایلیٹ لوگوں کو شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں،دنیا کورونا کی لپیٹ میں تھی، پٹرول کی قیمت چند روپے زیادہ ہوئی تو یہ لوگ چیخ رہے تھے ، آج 55 روپے اضافہ اسی حکومت نے کیا جو اس وقت چیخ رہے تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے 55 روپے اضافہ کر کے عوام پر بوجھ ڈالا ہے ، اپنے پروٹوکول اور شاہ خرچیوں کو کم نہیں کرتے لیکن عوام پر بوجھ ڈالنے سے گریز نہیں کرتے،ہم ایسی کسی پالیسی میں حکومت کا ساتھ نہیں دینگے جو عوام دشمن ہو، خدشہ ہے کہ آگے پیٹرول کے قلت آسکتی ہے، اس حوالے سے تجاویز بھی دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا تعلیمی اداروں اور دفاتر کیلئے پلان طے
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے تباہی ہوئی ہم نے اس وقت سیاست نہیں کی ان کا ساتھ دیا، نواز شریف کی صحت پر بھی ہم نے سیاست نہیں کی لیکن آج بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست کی جارہی ہے، بانی کے ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ان کے من پسند ہسپتال میں علاج کیا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں 15 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے کیلئے 22 ارب روپے ادا کرے گی ، پٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود بی آر ٹی کی کرایوں میں اضافے نہیں ہو گا ، 40 بی آر ٹی کا خرچہ صوبائی حکومت خود ادا کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مزید بی آر ٹی بسز کا آرڈر دیا ہوا ہے جس میں 10 پنک بسز خواتین کےلئے استعمال ہوں گی، کسانوں کے لیے جلد پیکیج کا اعلان کریں گے، ایک لاکھ 30 ہزار گھرانوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ جلد مکمل کیا جائے گا۔
اس کو بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی ایک اور سینیٹ نشست خطرے میں پڑ گئی
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ، ہم نے سرکاری خرچے پر بیرون ممالک سفر پر پابندی عائد کی ہے، ہمارا سرکاری ہیلی کاپٹر تباہ ہو چکا ہے جس میں دو پائلٹ شہید ہو گئے ہیں، ہم نے ابھی تک نیا ہیلی کاپٹر نہیں خریدا مگر دوسری طرف پنجاب میں 11 ارب کا جہاز خریدا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نئی گاڑیاں خریدنے میں مصروف ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی، ہم نے مانیٹرنگ ڈیش بورڈ بنایا ہوا ہے جس سے صوبے کے تمام پٹرول پمپ پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے گا۔