ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی 1 ضمانت قبل از گرفتاری کے تحریری فیصلے جاری کئے جس میں کہا گیا کہ توشہ خانہ جعلی رسیدوں کے کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی، پراسکیوشن کی جانب سے کہا گیا ہم نے رسید سوشل میڈیا پر دیکھی، پراسکیوشن کیجانب سے آج تک رسید کا فرانزک ہی نہیں کروایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت
فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے جعلی رسیدیں، الیکشن کمیشن یا کیبنٹ ڈویژن میں جمع کروائیں اسکا ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، عمران خان کی اعلیٰ شخصیات کیخلاف الزام تراشی کے مقدمہ میں بھی ضمانت منظور کی جاتی ہے، پراسکیوشن بانی پی ٹی آئی کی افواج پاکستان کیخلاف تقریر یا ثبوت عدالت پیش نہیں کر سکی۔
عدالت نے کہا کہ پراسکیوشن ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی جس سے ثابت ہوکہ بانی پی ٹی آئی نے بغاوت پر اکسایا ہو، 9 مئی احتجاج، اقدام قتل کے مقدمات میں بھی پراسکیوشن کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی، احتجاج کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی، پراسکیوشن ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی جس سے ثابت ہو احتجاج بانی پی ٹی آئی کی ایما پر ہوئے۔
یاد رہے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف تھانہ کوہسار، سیکرٹریٹ، کراچی میں سمیت دیگر میں 6 مقدمات درج ہیں۔