سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں عطا تارڑ نے افغان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق کی تازہ تفصیلات شیئر کی ہیں۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ اب تک آپریشن غضب للحق کے دوران اب 297 افغان طالبان ہلاک ، 450 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 89 چیک پوسٹس تباہ اور 18 افغان چیک پوسٹوں پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں 135 افغان ٹینکس اور فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں 29 اہداف کو ایئرسٹرائیکس کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن للحق اور پاک افغان صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا، پاکستان نے افغان جارحیت پر موثر انداز میں جواب دیا، افغانستان کی متعدد پوسٹوں پر پاکستان کی جانب سے قبضہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کی گئی، اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانستان کے شہری ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغان جارحیت کیخلاف جوابی کارروائی، مزید چیک پوسٹیں تباہ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں حالیہ عرصے میں جوڈیشل کمپلیکس اور امام بارگاہ پر خودکش حملوں میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں محفوظ نہیں، افغان شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں، افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے، طالبان کے نئے مجرمانہ ضابطے نے غلامی، تشدد اور خواتین پر جبر کو قانونی حیثیت دی، طالبان کا نیا ضابطہ قاہرہ اعلامیہ کی بنیادی ضمانتوں سے متصادم ہے،طالبان کے نئے ضابطے میں تمام انسانی حقوق کے قوانین اور کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے ضابطہ میں عدم مساوات اور معاشرے کو حیثیت کی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا، طالبان کا ضابطہ اسلامی اصولِ مساوات اور وقار کے ساتھ تصادم ہے، طالبان کے نئے ضابطے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی براہِ راست خلاف ورزی کرتے ہیں۔