افغان طالبان نے غلط اندازہ لگایا، پاکستان کا دوٹوک مؤقف
فائل فوٹو
فائل فوٹو
اسلام آباد (ویب ڈیسک): وزارتِ اطلاعات پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال کارروائی کر کے سنگین غلط اندازہ لگایا، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف سرحدی مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی، تاہم چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

وزارت کے مطابق پاکستانی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور سرحدی علاقوں میں مؤثر دفاعی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑہیں: آپریشن غضب للحق: پاکستان کا فیصلہ کن وار، 30 افغان طالبان اہلکار ہلاک، متعدد ٹھکانے ملیامیٹ

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو پاکستان کا امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں رہا ہے، تاہم ملک کے بازاروں اور مساجد میں دھماکے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو ہر صورت ایک پرامن ہمسایہ بننا ہوگا کیونکہ عالمی برادری کو بھی وہاں سے تحفظات ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سرحدی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی فورسز کے حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔

 

ضرور پڑھیں