آپریشن غضب للحق: پاکستان کا فیصلہ کن وار، 30 افغان طالبان اہلکار ہلاک، متعدد ٹھکانے ملیامیٹ
فائل فوٹو
فائل فوٹو
اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پاکستان نے “آپریشن غضب للحق” کا آغاز کرتے ہوئے افغان طالبان کی بلااشتعال کارروائیوں کا بھرپور جواب دے دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ 30 اہلکاروں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے تحت تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے۔ ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر اور چترال سیکٹر میں شدید جھڑپوں کے دوران دشمن کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں افغان طالبان کی دو اہم چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے ذریعے بھی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد اہلکار میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

دوسری جانب وزارتِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا پاکستانی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں دشمن کو سخت نقصان پہنچایا گیا۔

حکومت اور سکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا، اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاتا رہے گا۔

ضرور پڑھیں