اسیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے اپنے وکیل کے ذریعے مشترکہ بیان ریکارڈ کروایا۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو نہ تو ذاتی ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی اہلِ خانہ کو مکمل رسائی حاصل ہے، علاج کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے 2019 میں نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت پلیٹ لیٹس کم ہونے پر انہیں سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے اجلاسوں میں شریک رہے، مزید کہا گیا کہ اُس وقت اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں کو مکمل رسائی حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائی کورٹ، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت
اسیر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں کرایا جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔